کے ایف ڈی اور پاپولرفرنٹ ایک معروف امن پسند سماجی تنظیم
ہندوجاگرن ویدیکے اپنے بے جاالزامات سے باز آئے!
Tuesday, December 8th, 2009
بنگلور : ڈسمبر8 کے ایف ڈی اور پاپولرفرنٹ آف انڈیا ہندوستان بھر میں انسانی حقوق وسماجی حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والی فعال تنظیم ہے۔ یہ تنظیم مسلمانوں میں سماجی بیداری لانے میں ایک اہم کردار نبھارہی ہے۔ نوجوانوں اور ملت کا درد رکھنے والے ہزاروں کیڈرس کی یہ تنظیم اپنے ڈسپلن، لیڈرس کی اطاعت کیلئے مشہور ہے۔ زمینی سطح پر کام کرتے ہوئے عوام کو خود مختار بنانے کی کارروائی ہی سے آج ملت بیدار نظر آرہی ہے۔ جہاں بھی حقوق کو حاصل کرنے کی جدوجہد کی ضرورت پڑی اور کسی ظالم کو ظلم سے روکنے کی ضرورت محسوس کی گئی تو وہاں قانون کے دائرے میں رہ کر جمہوری طرز پر جو کارروائیاں، احتجاجات اور ریالیاں نکالے گئے ہیں ان تمام پر پولیس کے اعلیٰ افسران نے پاپولرفرنٹ کے نظم وضبط کو سراہاہے۔ قومی وریاستی مسلم تنظیموں کے ذمہ حضرات اور ملی وسماجی فکر رکھنے والے تمام عمائدین وعلماء کرام ومدبرین سے پاپولرفرنٹ کے اچھے تعلقات ہیں۔ اس کی جدوجہد اور مخلص کاوشوں پر اللہ تعالیٰ نے بہت کم مدت میں اسے بہت بڑی کامیابیاں عطاکی ہیں۔ ’’مکمل ایمپورمنٹ‘‘ کیلئے اس کی جدوجہد بہت ہی ڈسپلن کے ساتھ جاری وساری ہے۔ سوشیواکنامکل ایمپورمنٹ، ایجوکیشنل ایمپورمنٹ، لیگل ایمپورمنٹ اور پولیٹکل ایمپورمنٹ کے وسیع وعریض ایجنڈے پر ایک حد تک کام مسلسل چل رہاہے۔
لیکن سنگھ پریوار اور اسکی دیگر نام نہاد تنظیموں جیسے ہندوجاگرن ویدکے تنظیم کے غنڈوں اور فرقہ پرست انسانوں کو یہ تنظیم گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے اور ان کو انسانیت کے ساتھ ننگا ناچ کرنے کیلئے ماحول سازگار نہیں ہورہاہے، عوام ان کی غلط حرکتوں سے واقف ہوچکے ہیں۔ اسلئے کہ پچھلے دنوں جس طرح چرچوں میں توڑ پھوڑ اور دلتوں ، مسلمانوں وعیسائیوں کے خلاف منظم سازش کرتے ہوئے کئی مرتبہ عوام کی تھو تھو کا شکار ہورہے ہیں۔ لہٰذا سنگھ پریوار اور اس کی نام نہاد ہندوجاگرن ویدکے کے لوگ اس تنظیم کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
رام نگرم شہر میں 4 ڈسمبر کو بابری مسجد کی تعمیر اور لبرہن کمیشن رپورٹ کو نافذ کرنے پر زور دینے کیلئے پولیس کی اجازت کے ساتھ نکالی گئی پرامن ریلی اور جلوس میں صرف مسلمانوں نے نہیں بلکہ دلت اور ہندو بھائیوں اور لیڈروں کی تعداد بھی قابل ذکر تھی۔ ’’دلت مسلم زندہ باد‘‘ ، ’’بابری مسجد تعمیر کرو‘‘، ’’لبرہن کمیشن رپورٹ نافذ کرو‘‘، ’’بابری مسجد کے قصورواروں کو گرفتارکرو‘‘، جیسے منظم نعرے استعمال کئے گئے۔
سمتاسینکادل، کرناٹکا راجیہ دلتا سنگھرش سمیتھی، کرناٹکا راجیہ رائتہ سنگھا، سمواداکمیٹی، سماجاپرورتناجناآندولنا، بہوجن سماجا چلوولی، رام نگرم تعلق مسیدی سمیتی گلااُکوٹا اور پاپولرفرنٹ آف انڈیا کے لیڈران نے بھی عوام سے بہترین انداز میں خطاب کیا۔
لیکن یہ سنگھ پریوار کے لوگوں کو دلت مسلم اتحاد اور حقوق کے حصول کیلئے احتجاج ایک خطرہ کی گھنٹی نظر آنے لگی، تو انہوں نے اپنی بھڑاس نکالنے کیلئے 8 ڈسمبر کو پولیس نے اجازت کے بغیر ایک ریلی نکالی۔ قانون کے خلاف ریالی نکال کر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے والے مقررین راگھویندرا ہندوجاگرن ویدیکے رام نگرم تعلق سنچالک، کرشنپارام نگرم ضلع صدرہندوجاگرن ویدیکے، ناگراج تعلق صدر ہندوجاگرن ویدیکے، پارتھا شاستری ہندوجاگرن ویدیکے جیسے مقررین نے رام نگرم ڈسٹرکٹ آفس کے روبرو انتہائی شر انگیز تقاریر کیں، یہاں تک کہ مسلمانوں کو پاکستان چلے جانے اور ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کیلئے بہت ہی گرے ہوئے اور گندے محاورے استعمال کئے گئے۔ لیکن پولیس تماشائی بنی رہی، ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ جبکہ پولیس کی اجازت کے ساتھ پرامن احتجاج کرنے والے ہندوؤں اور مسلمانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے۔ ’’کیا یہ ملک جمہوری اصولوں کا پابند رہا ؟‘‘ ، ’’کیا یہاں کا قانون مذہب کی بنیاد پر کام کرتاہے ؟، ’’کیا یہاں کی پولیس شہریوں میں امتیازی سلوک نہیں کررہی ہے؟...
یہی وہ سوالات ہیں جو عوام کو مشتعل بنادیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امن وامان قائم رکھنے کیلئے ہر ایک کو انصاف ملے، ہر ایک کو آزادی ملے اور ہر ایک شہری کو تحفظ ملے۔
میڈیا انچارج, پاپولرفرنٹ آف انڈیا، رام نگرم ڈسٹرکٹ، کرناٹک
A neo social movement for a new India of equal rights to all Indians

















































